Introducing the Family - اہل خانہ کا تعارف

In this lesson Sarwar brings over his friend Pervaiz to his house in order to introduce him to the members of his family. The family comprises Mr. Khalid Chaudhary, father of Sarwar, Mrs.Asifa Ch., Sarwar's mother and Kausar Ch., Sarwar's younger sister. All are sitting in the drawing room. Both the friends enter the gate of the house and Pervaiz starts conversation. اس میں سروا اپنے دوست پرویز کو اہل خانہ سے ملانے کے لیے گھر لاتا ہے۔ سرور کے گھر میں اس کے والد خالد چوھدری، والدہ آصفہ چودھری ہیں۔ سب لوگ گھر کے ڈرائنگ روم ، میں بیٹھے ہیں۔ دونوں دوست گھر کےدروازے سے گھر میں داخل ہوتے ہیں تو پرویز گفتگو کاآغاز کرتا ہے۔
 
Pervaiz: Sarwar you're lucky to live in such a lovely house. پرویز: سرور تم خوش قسمت ہو کہ اتنے خوبصورت گھر میں رہتے ہو۔
 
Sarwer: Thanks. Please do come in. I'll introduce you to my parents and sister. سرور: شکریہ۔اندر آجاو۔میں تمہیں اپنے والدین اور بہن سے ملواتا ہوں۔
 
Pervaiz: I'm looking forward to meet them. پرویز: مجھے بھی ان سے ملنے کا اشتیاق ہے۔
 
Serwar: Daddy, please meet my friend, Pervaiz Khan. We are class-mates and clise friends as well. Pervaiz meet my daddy Mr. Khalid Choudhary. He is the Principal of the Govt. College. سرور: ابا جان!یہ ہیں میرے دوست پرویز خان۔ ہم ایک ہی جماعت میں پڑھتے ہیں اور بہت قریبی دوست بھی ہیں۔پرویز میرے اباجان سے ملویہ ہیں مسٹر خالد چوہدری۔ یہ گورنمنٹ کالج کے پرنسپل ہیں۔
 
Mr. Chaudhary: Hello, Pervaiz. Nice to have you wuth us this evening. مسٹر چودھری: کیا حال ہے پرویز۔ آج کی شام تمہیں اپنے ساتھ دیکھ کر خوشی ہوئی۔
 
Pervaiz: Good evening, Uncle. I'm happy to meet you. پرویز: شام بخیر چچاجان۔ مجھے بھی آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔
 
Mr. Ch.: Pervaiz where do you stay? مسٹر چودھری: پرویز تم کہاں رہتے ہو؟
 
Pervaiz: Uncle, We've got our house at Canal View. However, we belong to Multan. پرویز: چچاجان ہم نے کینال ویو میں اپناگھر لیاہے۔ تاہم ہمارا تعلق ملتان سے ہے۔
 
Mr.Ch.: What's your father's name? مسٹرچودھری! تمہارے والد کا کیا نام ہے۔
 
Pervaiz: What's his profession? پرویز: میرے والد کا نام شبیر خان ہے۔
 
Pervaiz: He is a Pilot in the Pakistan Air Force and is at present posted at Kamra. پرویز: وہ پاک فضائیہ میں پایلٹ ہیں اور آج کل ین کی تعیناتی کامرہ میں ہے۔
 
Sarwar: Come Pervaiz meet my mother Mrs. Asifa Ch. She is an lnterior Decorator. Mummy, meet my class-mate Pervaiz. سرور: آو پرویز میری والدہ سے ملو۔ یہ آصفہ چودھری ہیں اور ایک انٹیر یر ڈیکو ریٹرہیں۔ امی! میرے دوست اور ہم جماعت پرویز سے ملئے۔
 
Mrs.Ch.: Hello Pervaiz welcome to our house. مسز چودھری: کیسے ہو پرویز۔ ہم اپنے گھر میں تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔
 
Pervaiz: Hello, Aunty, good evening. پرویز: آپ کیسی ہیں چچی جان ؟شام بخیر۔
 
Mrs. Ch.: Good evening, Pervaiz. It's rather strange that Sarwar had never brought you to our house brfore. Now that you have seen our house, please keep coming. مسز چودھری: شام بخیر پرویز۔بلکہ مجھے حیرت ہے کہ سرور تمہیں پہلے کبھی گھر کیوں نہیں لایا۔ اب جب تک تم نے گھر دیکھ لیا ہے مہربانی اب آتے رہنا۔
 
Parvaiz: Thank you very much, Aunty. I'll certainly come more often in future. پرویز: بہت شکریہ چچی جان۔ یقیناً آئندہ میں اکژ آتا رہوں گا۔
 
Mrs.Ch.: Pervaiz, why don't you bring your mother also to our place sometime.? مسز چودھری: پرویز کسی روز اپنی والدہ کو بھی ہمارے گھر کیوں نہیں لے کر آتے؟
 
Pervaiz: O.K. Aunty, I'll definitely bring my mother to meet you next time when I come. پرویز: جی چچی جان۔ اگلی بار جب میں آوں گا تو یقیناً میں اپنی والدہ کو بھی لاوں گا۔
 
Mrs. Ch. Do you have ant brother or sister also? مسزچودھری: تمہارے اور بہن بھائی بھی ہیں۔
 
Pervaiz: We're three brothers and one sister. I'm the eldest in the family.All of them are studying. پرویز: ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں میں خاندان میں سب سے بڑاہوں ۔وہ سب ابھی پڑھ رہے ہیں۔
 
Sarwar: Pervaiz, come here please and meet the youndest member of the family, my little sister Kausar. She is in IX class and very much interested in debates and much interested in debates and dramatics. سرور: پرویز: براہ کرم ادھر آو اور ہمارے خاندان کی سب سے کم عمر رکن سے ملو۔ یہ ہے میری چھوٹی سی بہن کوثر۔ یہ نویں جماعت میں پڑھتی ہے اور ڈراموں اور مباحثوں میں بہت دلچسپی رکھتی ہے۔
 
Pervaiz: Hello Kausar! How are you? Sarwar often talks about you telling me how good you are in studies and debates as well. پرویز: کہو کوثرکیسی ہو؟ سرور اکثر مجھے تمہارے متعلق بتاتا رہتا ہے کہ تم تعلیم اور مباحثوں میں بہت اچھی جا رہی ہو۔
 
Kausar: Good evening, Pervaiz Sarwar has told me all about you that you have been a topper throughout and that no one can beat you in debates. کوثر: شام بخیر پرویز سرور نے مجھے بھی آپ کے تعلق سب کچھ بتایا ہے کہ مباحثوں اور تقریری مقابلوں میں آپ سے کوئی نہیں جیت سکتا۔
 
Pervaiz: Sarwar always exaggerates. It's true that I have won many prizes in debates but at times l've lost as well. that's the way of life. Sometimes you win and sometimes you lose. پرویز: سرور ہمیشہ مبالغہ آرائی کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ میں نے مباحثوں میں کئی انعام جیتے ہیں لیکن بعض دفعہ میں ہارا بھی ہوں۔ زندگی میں ایسا ہوتا ہے۔کبھی آپ جیت جاتے ہیں اور کبھی ہار جاتے ہیں۔
 
Kausar: Will you please tell me how to speal better in debates? I too want to be very good in debates and win lots of prizes. کوثر: آپ مجھے بتائیں گے کہ مباحثوں میں بہتر طور پر کیسے بولا جاتا ہے؟ میں خود بھی چاہتی ہوں کہ میں اس میدان میں زیادہ اچھی کارکردگی دکھاوں اور ڈھیروں انعامات جیتوں۔
 
Pervaiz: Of course, I'll be glad to give you some tips on good debating provided you promise me that you will learn hard and win prizes. پرویز: یقیناً! مجھے خوشی ہو گی کہ میں تمہیں اچھا مباحثہ کرنے کے بارے میں چند اہم باتیں بتاوں بشرطیکہ تم اس بات کا وعدہ کرو کہ تم ان کو اچھی طرح ذہن نشین کروگی تا کہ تم انعام حاصل کر سکو۔
 
Kausar: Of course I'll learn by heat whatever you teach me and shall thank you when I win the first prize. کوثر: بلا شبہ میں پوری دلجمعی سے اسے یاد رکھوں گی جو آپ مجھے بتایئں گے اور پہلا انعام حاصل کرنے پر آپ کا شکریہ بھی ادا کروں گی۔
 
Pervaiz: Sarwar, It's getting quite late. I should better make a move now. پرویز: سرور' خاصی دیر ہو ررہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے چلنا چاہیے۔
 
Mrs.Ch: Pervaiz, why don't you have dinner with us? Mr. Ch will drop you at your home in our car. مسز چودھری: پرویز' تم رات کا کھانا ہمارے ساتھ کیوں نہیں کھالیتے۔ چودھری صاحب تمہیں اپنی گاڑی پر گھر چھوڑ آئیں گے۔
 
Pervaiz: No, thank you, Aunty. I didn't tell my mother that I would be out for dinner. so she must be waiting to have dinner with me. پرویز: جی نہیں چچی جان شکریہ۔ میں نے اپنی والدہ کو بتایا نہیں تھا کہ میں رات کا کھانا باہر کھاوں گا۔ وہ کھانے پر یقیناًمیرا انتظار کر رہی ہوں گی۔
 
Mrs. Ch: Okay, Pervaiz, we'll not insist this time. But next time when you come , you will have to dine with us. How will you go home now? مسز چودھری : ٹھیک ہے پرویز اس مرتبہ ہن اصرار نہیں کرتے۔ لیکن اگلی مرتبہ جب تم آو گے تو کھانا ہمارے ساتھ کھانا ہو گا۔ اب تم گھر کس طرح جاو گے۔
 
Pervaiz: Aunty, I'll catch a bus from the crossing over there which will drop me right in front of my house. پرویز: چچی جان میں چوک سے بس پکڑوں گا جو مجھے بالکل میرے گھر کے سامنے اتار دے گی۔
 
Mrs.Ch: Nice to have you with us. Do come again. مسز چو دھری: تم سے لم کر خوشی ہوئی۔ دوبارہ ضرور آنا۔
 
Pervaiz: I'll Aunty. Thank you and good night. پرویز: جی ضرور چچی جان ۔ شکریہ اور شب بخیر۔
 
Mrs.Ch: Good night Pervaiz. مسز چودھری: شب بخیر پرویز۔
 
Pervaiz: Good night, Uncle and good night Kausar. پرویز: شب بخیر چچاجان اور شب بخیر کوثر۔
 
Pervaiz: Thank you, Sarwar for inviting me. I thoroughly enjoyed the evening. Good night, see you tomarrow in the college. پرویز: شکریہ سرور مجھے دعوت دینے کا۔ میں اس شام سے پوری طرح لطف اندوز ہوا ہوں۔ شب بخیر۔ کل تم سے کالج میں ملاقات ہو گی۔
 
Sarwar: Good night. See you. سرور: شب بخیر۔ پھر ملیں گے۔