Discussion About An Accident - ایک حادثے پر بحث

Ahmed: (Going no a motor-bike, sees a crowd, he stops and asks, seeing a friend in crowd). Hello Jawad, what is the matter? Why have so many people gathered here? احمد: ( موٹر بائیک پر جاتے ہوئےایک ہجوم کو دیکھتا ہے۔ رک کر ایک دوست سے پوچھتا ہے؟ اتنے لوگ یہاں کیوں جمع ہیں؟
 
Jawad: A few mintes ago, a wagon struck a motorcycle. جواد: کچھ دیر پہلے یہاں ایک ویگن اور موٹر سائیکل کی ٹکر ہو گئی۔
 
Ahmad: But how did the accident take place? احمد : لیکن حادثہ کیسے ہوا؟
 
Jawad: People say that the wagon tried to take over another wagon of the same route at full speed and struck the motorcycle coming from the opposite side. The wagon driver was in the wrong. جواد: لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایک ویگن نے اپنے ہی روٹ کی دوسری ویگن سے پوری رفتار کے ساتھ آگے نکلنے کی دوسری ویگن سے پوری رفتار کے ساتھ آگے نکلنے کی کو شش کی اور مخالف سمت سے آنے والی مو ٹر سائیکل سے ٹکرا گئ۔قصور ویگن والے کا ہی تھا۔
 
Ahmed: And what about the poor motorcycle driver? احمد: اور بچارے موٹر سائیکل والے کا کیا بنا؟
 
Jawad: He is hurt seriously. Both of his legs have been fractured and his bike is almost disfigured. جواد: اسے شدیدچوٹیں آئی ہیں۔ اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئ ہیں اور اس کی بائک کا کوئی حال نہیں رہا۔
 
Ahmed: What about the wagon driver? Is he also hurt? احمد: ویگن ڈرائیور کا کیا بنا؟ کیا وہ بھی زخمی ہوا ہے۔
 
Jawad: Not so seriously, but he has slipped away leaving the wagon. جواد : اتنا ذیادہ نہیں بلکے وہ ویگن کو چھوڑ کے بھاگ گیا ہے۔
 
Ahmed: It is not convenient to travel in Lahore by wagons. احمد: لاہور کی ویگن میں سفر کرنا پُر سکون نہیں ہے۔
 
Jawad: The drivers, especially the yougsters think it below their dignity to observe traffic rules. جواد: ڈرائیور حضرات خصوصاً نوجوان ٹریفک کے قوانین کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔
 
Ahmed: Yes, you are right, Let us go now. احمد: آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ اب ہمیں چلنا چاہیے۔
 
Jawad: Allah Hafiz جواد: اللہ حافظ۔
 
Ahmed: Allah Hafiz احمد: اللہ حافظ۔