At the Breakfast Table - ناشتے کی میز پر

In this lesson Mrs Ansari has prepared breakfast for her family which comprises her husband Mr. Ansari, and their two teen-aged daughters, Fatima and Shakila. There is a great hurry as Mr. Ansari has to go to his office, Fatima and Shakila have to go to their school and Mrs. Ansari has plans for the family for an afternoon show. اس سبق میں مسز انصاری نے اپنی فیملی جو اس کے خاوند مسٹر انصاری اور ان کی دو چھوٹی لڑکیوں فاطمہ اور شکیلہ پر مشتمل ہے کے لیے ناشتہ تیار کیا ہے۔ وہاں پر سب کو جلدی ہے کیونکہ س مسٹر انصاری کو اپنے دفتر جانا ہے۔ فاطمہ اور شکیلہ کو اپنے سکول کو جانا چاہے اور مسز انصاری کا فیملی کو بعد دوپہر کے شو میں لے جانے کا ارادہ ہے۔
 
Mr.Ansari: Breakfast is ready. Come and have it before it gets cold. مسز انصاری ناشتہ تیار ہے۔ آیئے اور کر لیں اس سے پہلے کہ یہ ٹھنڈا ہو جائے۔
 
Fatima: (Sitting first at the table) Can I have the first paratha, Mother? فاطمہ: (میز پر سب سے پہلے بیٹھے ہوئے) کیا میں پہلا پر اٹھا لے سکتی ہوں امی جان۔
 
Mrs. Ansari: No, that's for your father. Please go and call him. مسزانصاری نہیں یہ تمہارے باپ کے لیے ہے۔ جایئے اور اُن کو بلایئں۔
 
Fatima: Father, breakfast is ready. Please come fast. فاطمہ: ابو جان۔ ناشتہ تیار ہے۔ برائے مہربانی جلدی آئیے۔
 
Mrs. Ansari: Just a minte, I can't find my socks. I don't know where your mother has kept them. مسٹر انصاری: صرف ایک منٹ کیلئے ٹھہرئیے مجھے اپنی جرابیں نہیں مل رہیں۔ پتہ نہیں تمہاری امی نے انہیں کہاں رکھا ہے۔
 
Mrs. Ansari: Don't you remember you gave them to the washerman last night? Take out a clean pair of socks from the cupboard and please hurry for breakfast; it's getting cold. مسز انصاری: کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے انہیں گزشتہ شب دھوبی کو دے دیا تھا۔ الماری میں سے جرابوں کا ایک صاف جوڑو نکال لیں۔ اور بر ائے مہربانی ناشتے کیلئے جلدی کریں یہ سرد ہورہا ہے۔
 
Shakila: Fatima, are you wearing my socks? Give them back to me, I don't have any other clean pair. شکیلہ: فاطمہ کیا تم نے میری جرابیں پہں رکھی ہیں وہ مجھے واپس کر دو۔ میرے پاس کوئی اور صاف جوڑو نہیں ہے۔
 
Fatima: Come and have breakfast first, then I'll return your sockes. فاطمہ: آیئے اور پہلے ناشتہ کر لیجیے۔ پھر میں آپ کی جرابیں واپس کر دوں گی۔
 
Mr. Ansari: Breakfast smells good. Today the table is really full of all sorts of dishes and fruit. Hot paratha, jam, cheese, bread, butter, meat, curry, banana, apple, and even fruit salas. Whose birthday si it? مسٹر انصاری: کیا خوشبو ہے ناشتے کی۔ آج میز حقیقتاً ہر قسم کے کھانوں اور پھلوں سے بھری ہوئی ہے۔ گرم پراٹھا' جام' پنیر' ڈبل روٹی' مکھن'گوشت'سالن'کیلے' سیب اورپھلوں کی سلاد بھی۔ آج کس کی سالگرہ ہے۔'
 
Mrs. Ansari: It's not a birthday party, my dear. Don't you remember, today being Saturday, we all are going to the move for the matnee show? That means no lunch, so you had better eat well. We'll have heavy breakfast and then dinner, Of course, we can have light snacks during the inteval, in the theatre. مسز انصاری: جان یہ سالگرہ کی پارٹی نہیں ہے۔کیا آپ کو یاد نہیں پڑتا کہ آج ہفتہ ہےاور ہم مٹنی شو پر فلم دیکھنے جا رہے ہیں۔اس کا مطلب ی ہے دوپہر کا کھانا نہیں ہو گا اس لیے بہتر ہے کے آپ زیادہ کھا ئیں گے البتہ وقفہ کے دوران تھیٹر میں ہلکی سی چیزیں کھا لیں گے۔
 
Shakila: Mother, I 'm not feelling very hungry after drinking this glass of milk. شکیلہ: امی جان یہ دودھ کا گلاس پینے کے بعد مجھے زیادہ بھوک نہیں محسوس ہو رہی ہے۔
 
Mrs. Ansari: My dear child, you had bettre eat, otherwise you'll feel hungry while seeing the movie. مسز انصاری: میرے پیارے بچے بہتر ہے کہ تم کھا لو ورنہ فلم دیکھتے وقت تمہیں بھوک لگے گی۔
 
Mr.Ansari: I think there is less salt in meat curry. Shakila, pass me some salt and a slice of bread. I find paratha too heavy, although it's very tempting. مسڑ انصاری میرے خیال میں گوشت کے سالن میں نمک کم ہے۔شکیلہ مجھے کچھ نمک اور روٹی کا ایک ٹکڑا دو۔ پراٹھا مجھے بہت وزنی لگتا ہے۔اگرچہ اس میں بڑی اشتہا ہوتی ہے۔
 
Mrs. Ansari: I know paratha is your weakness, but lately you have started eating less. Hope there is nothing wrong, dear. مسز انصاری: مجھے معلوم ہے پراٹھا آپ کی کمزوری ہے لیکن حال ہی میں آپ نے کھانا کم کر دیا ہے۔ مجھے اُمید ہے جان کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔
 
Mr. Ansari: No, no, there's nothing wrong. It's just that I'm typing to lose a little weight and look trim and proper like Shakila. May be, I'll get a jobe for modelling! مسٹر انصاری: نہیں نہیں۔ ایسی پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے بات صرف یہ ہے کہ میں کچھ وزن کم کرنا چاہتا ہوں اور شکیلہ کی طرح دبلا اور مناسب دکھائی دینا چاہتا ہوں۔ہو سکتا ہے یہ مجھے ماڈلنگ کا کام مل جائے۔
 
Shakila: Oh, Father! You are always teasing me. شکیلہ: اوہ ابو جان آپ مجھ پر ہمیشہ طنز کرتے ہیں۔
 
Fatima: Mother, I love eating and don't care for dieting as Shakila does. That's why I do so well in sports. فاطمہ: امی جان میں کھانا پسند کرتی ہوں اور کھانے کی پرواہ نہیں کرتی جیسا کہ شکیلہ کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں کھیلوں میں اچھی کارکردگی دیکھاتی ہوں۔
 
Mrs. Ansari: Yes, dear. Do eat well but be more carefull when you give up playing sports, because then you'll be liable to put on weight like me, which is not good. Here, have some more bananas.How did you find the fruit salad? مسز انصاری: ہاں عزیزی تم آچھا کھاو لیکن جب تم کھیلنا بند کرو تو زیادہ احتیاط کرو کیونکہ میری طرح تمہارا بھی وزن زیادہ ہو جائے گا۔ جو کہ اچھی بات نہیں ہے یہ لو اور کیلے کھاو تمہیں پھلوں کی سلاد کیسی لگی۔
 
Fatima: I liked it very much, Mother. فاطمہ: مجھے یہ بہت پسند آئی امی جان۔
 
Mr. Ansari: So did I, dear. Oh, My God! It's getting late. I had better leave now or else I'll miss my bus. Bye, everyone. مسٹر انصاری: جان مجھےبھی پسند آئی۔اوہ میرے خدا۔ دیر ہو رہی ہے۔جانا چاہیے ورنہ میری بس نکل جائے گی تم سب کا خدا حافظ۔
 
Fatima: Bye bye, Father. فاطمہ: خدا حافظ! ابو جان۔
 
Shakila: Bye bye, Fatehr. شکیلہ:خداحافظ! ابو جان۔
 
Mrs. Ansari: Bye bye, and come back in time; we don't want to be late for the movie. (After Mr.Ansari haa left) Oh! He has forgotten his hanky! شکیلہ: خدا حافظ!اور وقت پر واپس آ جانا۔ ہم فلم کے لیے دیر نہیں کرنا چاہتے (مسٹر انصاری کی جانے کے بعد) اوہ وہ اپنا رومال بھول گئے ہیں۔